Posts

Ashraf Saboohi Class 10 Urdu Important mcqs / objective

Image
  اردو جماعت دہم مصنف: اشرف صبوحی 1۔ اشرف صبوحی  1905  میں  دہلی  میں پیدا ہوئے۔ 2۔ آپ کی ابتدائی تعلیم گھر  پر ہوئی۔ 3۔ اشرف صبوحی کا اصل نام  سید ولی اشرف  تھا۔ 4۔ اشرف صبوحی کا قلمی نام   اشرف صبوحی  تھا۔ 5۔ اشرف صبوحی نے  1922  میں  اینگلو عریبک ہائی سکول  سے میٹرک کیا۔ 6۔ معروف ادیب  شاہد احمد دہلوی  اشرف صبوحی کے ہم جماعت تھے۔ 7۔ اشرف صبوحی محکمہ  ڈاک و تار  میں ملازم رہے۔ 8۔ اشرف صبوحی  آل انڈیا  ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ 9۔ قیام پاکستان کے بعد اشرف صبوحی  لاہور  آ گئے۔ 10۔ اشرف صبوحی  1965  میں ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔ 11۔ ملازمت کے بعد اشرف صبوحی نے  ہمدرد دوا خانہ  کے شعبہ   مطبوع 5;ت  سے وابستگی اختیار کر لی۔ 12۔ اشرف صبوحی نے  انگریزی  کتابوں کا  اردو  ترجمہ بھی کیا۔ 13۔ اشرف صبوحی نے   1990  میں وفات پائی۔ اشرف صبوحی کا انداز بیان 1۔ صاحب طرز ادیب 2۔ دہلی کے مخصوص طبقوں کی بول چال پر ...

Doctor Ghulam Mustafa Khan Urdu 10 class important mcqs

Image
  ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان 1912 میں جیل پور میں پیدا ہوئے۔ غلام مصطفیٰ نے 1928 میں نویں جماعت انجمن اسلامیہ ہائی سکول جبل پور سے پاس کی۔ نویں جماعت پاس کر کے آپ علی گڑھ چلے گئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی ، ایم اے فارسی اور ایم اے اردو کی ڈگریاں لیں۔ آپ نے 1947 میں پی ایچ ڈی اردو کی۔ ناگ پور یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی ڈگری لی۔ آپ نے ڈی لٹ کی ڈگری 1959 میں لی۔ عملی زندگی کا آغاز کنگ ایڈورڈ کالج امروتی سے بطور لیکچرار کیا۔ پاکستان بننے کے بعد اردو کالج کراچی سے وابسطہ ہوئے۔ سندھ یونی ورسٹی میں صدر شعبہ اردو کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ غلام مصطفیٰ کو ستارہ امتیاز ، نقوش ایوارڈ ، اقبال ایوارڈ اور نشان سپاس ملا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کے موضوعات: ۔1۔مذہب ۔2۔پاکستانیات ۔3۔ادب ۔4۔تصوف ۔5۔اخلاق ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کی تحریریں ۔1۔معرب و مقرس ۔2۔زبان سادہ ، سلیس اور عام فہم ۔3۔اردو، فارسی، اور عربی  زبان میں سو سے زیادہ تصانیف ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کی تصانیف ۔1۔سید حسن غزنوی ۔2۔حیات اور کارنامے ۔3۔سراج البیان ۔4۔اقبال اور قرآن ۔5۔تنقید و تحقیق

Shahid Ahmed Dehlvi Introduction mcqs

Image
  شاہد احمد دہلوی شاید احمد دہلوی 1906  میں   دہلی   میں پیدا ہوئے۔ شاہد احمد دہلوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی  کے پوتے اور   مولوی بشیر احمد  کے فرزند تھے۔ انیوں نے ایف ایس سی   ایف سی کالج لاہور  سے کی اور میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ شاہد احمد دہلوی نے دہلی  سے   انگریزی ادبیات  میں   بی-اے آنرز   کیا۔ شاہد احمد دہلوی نے   فارسی  میں ایم اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد شاہد احمد کراچی  آ گئے۔ تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب  سے تراجم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ شاہد احمد نے پاکستان رائٹرز گلڈ  کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہد احمد کو 1923  میں تمغہ حسن کارکردگی ملا۔ یماری کی وجہ سے شاہد احمد دہلوی   طبی   تعلیم کا ارادہ ترک کر دیا۔ شاہد احمد دہلوی نے   1967    میں وفات پائی۔  ڈاکٹر جمیل جالبی  کے مشورے پر خاکہ نگاری شروع کی۔  شاہد احمد دہلوی   موسیقار بھی تھے۔ شاہد احمد دہلوی کا انداز بی...

Ehsaan Danish Introduction Mcqs

Image
 احسان دانش احسان دانش کا اصل نام احسان الحق  تھا۔ احسان دانش کا تخلص دانش  تھا۔ احسان دانش کا قلمی نام احسان دانش  تھا۔ احسان دانش 1914  میں پیدا ہوئے۔ احسان دانش کاندھلہ، ضلع مظفر نگر (یو پی)  میں پیدا ہوا۔ احسان دانش نے عربی اور فارسی حافظ محمد مصطفیٰ  سے پڑھی۔ غربت   کی وجہ سے احسان دانش کو تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ احسان دانش مزدوری کرنے لاہور  آئے۔ قاضی محمد ذکی  کی صحبت ملنے کے بعد آپ شعر کہنے لگے۔ احسان داش کی وفات 1982  میں ہوئی۔ احسان دانش کو مزدور شاعر  کہا جاتا ہے۔ احسان داش کی وجہ شہرت   نظمیں ہے۔ احسان دانش کی آپ بیتی کا نام جہان دانش  ہے۔  احسان دانش کی شاعری 1۔ احسان دانش قادرالکلام شاعر تھے۔ 2،مشرقی اقدار کی آئینہ دار شاعری 3۔غزل اور نظم پر ایک جیسی قدرت تھی۔ 4، ان کی نظموں میں عام آدمی کا دکھ ملتا ہے۔ 5۔ قدرتی مناظر کی تصویر کشی۔ احسان دانش کی تصانیف 1۔ حدیث زندگی 2،درد زندگی 3،نوائے کارگر 4۔ آتش خاموش 5۔ گورستان 6۔ زخم و مرہم 7۔ شیرازہ

Hafeez Jandhari Introduction Mcqs

Image
  حفیظ جالندھری حفیظ جالندھری کا نام   محمد حفیظ   تھا۔ حفیظ جلندھری کا تخلص   حفیظ   تھا۔ حفیظ جالندھری  جالندھر  میں پیدا ہوئے۔ حفیظ جالندھری نے ابتدائی تعلیم  جالندھر  سے حاصل کی۔ حفیظ جالندھری  شاعری   کا فطری ذوق رکھتے تھے۔ حفیظ جالندھری کے استاد کا نام  مولانا غلام قادر گرامی  تھا۔ حفیظ جالندھری  1947  میں واپس آئے۔ حفیظ جالندھری کو  مشاعروں  سے شہرت ملی۔ حفیظ جالندھری  1982  میں  لاہور  میں فوت ہوئے۔ ان کا مزار  اقبال پارک  میں  مینار پاکستان  کے قریب واقع ہے۔ پاکستان کا قومی ترانہ  ان کی ایک قابل ذکر تخلیق ہے۔ حفیظ جالندھری کے کلام کی نمایاں خصوصیات زبان کی صفائی سادگی سوزو گداز موسیقیت۔ حفیظ جالندھری اورشاہ نامہ اسلام شاہ نامہ اسلام حفیظ جالندھری کی قابل قدر تخلیق ہے۔  یہ اردو کی قومی، ملی اور رزمیہ شاعری  میں عمدہ اضافہ ہے۔ حفیظ جالندھری کی تصانیف تلخابہ شیریں سوز و ساز حفیظ کے گیت حفیظ کی نظمیں  چیونٹی نامہ

Important fill in the blanks of Social Studies (معاشرتی علوم) in Urdu Worksheet

Image
معیشت، کاروبار، آب و ہوا خالی جگہ پر کریں: 1۔کسی علاقے یا جگہ کی مختصر عرصے کی فضائی کیفیت   کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتےہیں۔  2۔ کسی بھی علاقے یا جگہ کی طویل عرصے کی اوسط فضائی کیفیت کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔ 3۔زمینی گیسوں کے ایک میں لپٹی ہوئی   غلاف کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔ 4۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسایئڈ کی وجہ سے زمیں کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں۔ 5۔ گرین ہاوس ایفیکٹ کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہلاتا ہے۔ 6۔چیز کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرنے کا مطلب ہے چیز کو نئی شکل میں دوبارہ بنانا۔ 7۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   سے مراد فصلیں بونا اور کاشت کرنا۔ 8۔ کاشتکار جانوروں کی افزائش کرتے ہیں جس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کہتے ہیں۔ 9۔ زمین کی سطح کے نیچے سے معدنیات اور دیگر اشیاء کا نکلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کہلاتا ہے 10۔ ایسے قدرتی عوامل جو نہ صرف انسانوں بلکہ دوسرے ماحول کو نقصان پہنچائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   کہلاتے ہیں۔ 11۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ایک ایسا علم ہے جو اشیاء خدمات کی پیداوار اور ان کے استعمال کی وضاحت کرے۔ 12۔ وہ لوگ جو اپنی صلاحیتوں کے استعمال کرتے ہوئے دوس...

تعلیم نسواں مضمون

تعلیمِ نسواں تعلیمِ نسواں ایک اہم موضوع ہے جو ہماری معاشرتی ترقی اور پیشگوئی کی راہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عورتوں کو تعلیم فراہم کرنا ان کے لیے ایک بنیادی حق ہے جو ان کے انسانی حقوق کی پیروی کا حصہ ہے۔ تعلیمِ نسواں کے بغیر کسی معاشرتی بنیاد پر ترقی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پہلی بات یہ ہے کہ تعلیمِ نسواں عورتوں کے معیشتی اور سماجی اعتماد کو بڑھاتا ہے۔ جب عورتیں تعلیم حاصل کرتی ہیں تو ان کی استحکامی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ خودبخود اپنی معاشرتی حیثیت میں بڑھتے ہیں۔ ایسی عورتیں سماج میں اپنی قدرتی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتی ہیں جو کہ معاشرتی ترقی کے لیے اہم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تعلیمِ نسواں سماج میں موجود جنسی تشویشات کو کم کرتا ہے۔ جب عورتیں تعلیم حاصل کرتی ہیں تو ان کی علم و فہم میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے حقوق کی شناخت کرتی ہیں۔ ایسے معاشرتی ماحول میں عورت کو خودبخود اپنی حقوق کی حفاظت کا ذمہ دار محسوس ہوتا ہے جس سے ان کے ساتھ جنسی تشویشات کم ہوتی ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ تعلیمِ نسواں اقتصادی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ جب عورتیں تعلیم حاصل کرتی ہیں تو ان کے معیشتی اہلیت ...